صفحات

Friday, June 12, 2026

ہر شب منم فتادہ بہ گرد سرائے تو




ہر شب منم فتادہ بہ گرد سرائے تو

تا روز آہ و نالہ کنم از برائے تو


ہر رات میں تیرے آستانے کے پاس پڑا رہتا ہوں، اور صبح تک تیرے غم میں آہ و زاری کرتا رہتا ہوں۔


روزے کہ ذرہ ذرہ شود استخوان من

باشد ہنوز در دل تنگم ہوائے تو

جس روز کہ میری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو جائیں اس دن بھی میرے تنگ دل میں تیری تمنا ہو گی۔


ہرگز شب وصال تو روزے نشد مرا

اے وائے بر کسے کہ بود مبتلائے تو


کبھی بھی تیرے وصال کی شب میرے لیے سحر نہ ہو سگی۔

افسوس اس دل پر جو تیری محبت میں گرفتار ہو۔


جاں را رواں برائے تو خواہم نثار کرد

دستم نمی دہد کہ نہم سر بہ پائے تو


اپنی جان تیرے لئے قربان کر دوں، میرا بس نہیں چلتا کہ تیرے پاؤں پر سر رکھ دوں۔


جانا بیا بہ بیں تو شکستہ دلی من 

عمرے گذشتہ است منم آشنائے تو


اے محبوب آ اور میری شکستہ دلی دیکھ،  میں ایک مدت سے تیرا آشنارہا ہوں۔


بر حال زار ما نظرے کن ز روئے لطف

تو بادشاہ حسن و خسروؔ گدائے تو


مہربانی فرما کر میری حالت زار پر لطف کی نظر کر، تو حسن کا بادشاہ ہے اور خسروؔ تیرا گدا ہے۔ 

Monday, June 8, 2026

اے سروِ نازنینِ من، از من چہ دیدہ ای

 



اے سروِ نازنینِ من، از من چہ دیدہ ای

کلام: طوطیِ ہند حضرتِ خواجہ امیرخسروؔ دھلوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

اے سروِ نازنینِ من، از من چہ دیدہ ای

یک بار مہر از منِ مسکیں، بُریدہ ای


  اوّل   و   فا نمودی    و بُردی   دل  مرا     

 آخر چہ شد کہ عارض از من کشیدہ ای


آرے بہ سیم و زر ہمہ کس بندہ می خرید

ما بندۂ    تویم   کہ     بے   زر خریدہ  ای


فخرم بسست ایں کہ کمینہ سگِ تویم

نازم بر آں زماں کہ بہ لطفم خریدہ ای


خسروؔ تو بس بلند شدی در طریقِ عشق

گویا بہ پائے بوسہ سگانش رسیدہ ای


*******************

اے سروِ نازنینِ من، از من چہ دیدہ ای         یک بار مہر از منِ مسکیں، بُریدہ ای

اے سروِ نازنینِ من، از من چہ دیدہ ای

تو میری آنکھوں سے دیکھ اپنے قد کو اپنے پیارے سے قد کو تو پتہ چلے گا 

یک بار مہر از منِ مسکیں، بُریدہ ای

 تو تھوڑا سا اپنی محبت کے ساتھ ایک نگاہ مجھ پر ڈال دے میں مسکین ہوں تُو نے مجھ کو چھین لیا 


اوّل وفا نمودی و بُردی دل مرا                  آخر چہ شد کہ عارض از من کشیدہ ای

اول وفا نمودی بمردی دلے مرا 

پہلے تو تُو نے اپنی وفاداری مجھ کو دکھائی اور اس سے میرا دل چھین لیا 

آخر چشم کے عارضے از من کشیدے 

یہ فراق کا ایک لمحہ ہے کہ تُو مجھ سے اپنے عارض یعنی رخسار اپنے منہ کیوں پھیر لیا تُو نے میرے طرف سے پہلے تو تُو نے میرا دل چھینا تھا نا پہلے تو تُو نے میری وفا کو دیکھا تھا نا اب تو یہ کیا کر رہا ہے؟ 


آرے بہ سیم و زر ہمہ کس بندہ می خرید ما بندہء تویم کہ بے زر خریدہ ای

آرے بہ سیم و زر ہمہ کس بندہ می خرید

 ما بندے توویم کہ بےزر خریدائی

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سیم و زر یعنی سونے چاندی کے ساتھ کوئی کسی کو خرید لے تُو نے سونے چاندی کے ساتھ مجھے نہیں خریدا میں تو خود تیری غلامی میں آ گیا، بےزر خریدائی بےزر غلام زر خرید جس کو کہتے ہیں


فخرم بسست ایں کہ کمینہ سگِ تویم نازم بر آں زماں کہ بہ لطفم خریدہ ای

 فخرم بسست ای کہ کمینہ سگے تویم 

مجھے تو بس اس پر ہی فخر ہے کہ مجھ جیسا کمینہ بھی تیرا ترے پلووے دربانوں میں آتا ہے سگ ِدربان کے معاملوں میں آتا ہے جو چوکٹ پہ بیٹھا رہتا ہےقطمیر کے جیسے اصحاب کہف کی چوکٹ پہ بیٹھا ہوا ہے۔


نازم بر آں زماں کہ بہ لطفم خریدہ ای

 مجھے تو وہ زمانے پر ناز ہے کہ جب تُو نے لطف و کرم کیا اور مجھ کو خرید لیا ہا ہا کیا پیاری بات ہے

 جب تک بکا نہ تھا تو کوئی پوچھتا نہ تھا تم نے خرید کر مجھے انمول کر دیا 


خسروؔ تو بس بلند شدی در طریقِ عشق گویا بہ پائے بوسہ سگانش رسیدہ ای

خسرؔو تو بس بلند شدی درد طریقہ عشق 

خسرو تو اتنا کر کہ عشق کی طریقت میں خود کو بلند کرتا چلا جا 

گویا بپائے بوسہ سگایش رسیدئی 

تاکہ اس کے قدموں کو چومنے کے لیے تجھے وہاں تک پہنچ ہو سکے 



Monday, May 18, 2026

دیشب کہ می رفتی عیاں رو کردہ از ما یک طرف



دیشب کہ می رفتی عیاں رو کردہ از ما یک طرف

افگندہ کاکل یک طرف زلف چلیپا یک طرف


سلطان خوباں می رود گرد ہجوم عاشقاں

چابک سواراں یک طرف مسکیں گدایاں یک طرف


نوشی شراب لعل او شد مجلس ما بے خبر

جام‌ و صراحی یک طرف مستان رسوا یک طرف


تا بر رخ زیبائے تو افتادہ زاہد را نظر

تسبیح زہدش یک طرف ماندہ مصلیٰ یک طرف


بے چارہ خسروؔ خستہ را خوں ریختن فرمودہ است

خلقے بمنت یک طرف واں شوخ تنہا یک طرف


حضرت امیر خسرو کے اس کلام میں عشقِ حقیقی، فنا فی المحبوب، اور تجلیِ الٰہی کے اسرار پوشیدہ ہیں۔ صوفیاء کے نزدیک محبوب سے مراد صرف ظاہری حسن نہیں بلکہ ذاتِ حق تعالیٰ، یا اُس کے محبوب بندے یعنی محمد ﷺ کی جمالیاتی تجلی بھی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اس کلام کو محض عشقیہ شاعری سمجھنا اس کے باطن سے ناواقفیت ہوگی۔


 نوشی شرابِ لعلِ او شد مجلسِ ما بے خبر

 جام و صراحی یک طرف، مستانِ رسوا یک طرف

صوفیانہ اصطلاح میں “شراب” سے مراد عشقِ الٰہی کی وہ کیفیت ہے جو عقلِ جزوی کو مغلوب کر دے۔ “لعلِ او” محبوب کے لب ہیں، یعنی وہ کلامِ حق یا تجلیِ محبوب جسے سن کر سالک اپنے ہوش کھو بیٹھتا ہے۔


قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

**اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ**

> “خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔” (سورۃ الرعد: 28)


صوفیاء کہتے ہیں کہ جب دل پر ذکر اور محبتِ الٰہی کی کیفیت غالب آتی ہے تو ظاہری اسباب کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے خسروؔ فرماتے ہیں کہ ایک طرف جام و صراحی رہ گئے اور دوسری طرف وہ عاشق ہیں جو عشق میں رسوا و بے خود ہو چکے ہیں۔


یہی کیفیت حدیثِ قدسی میں ملتی ہے:

 “میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔”

( صحیح بخاری)


جب بندہ محبوبِ حقیقی کے قرب میں آتا ہے تو دنیا کی لذتیں ہیچ محسوس ہوتی ہیں۔


---


 تا بر رخِ زیبائے تو افتادہ زاہد را نظر

 تسبیحِ زہدش یک طرف، ماندہ مصلیٰ یک طرف


یہاں “زاہد” اُس شخص کی علامت ہے جو صرف ظاہری عبادت میں مشغول تھا، مگر جب اس نے محبوبِ حقیقی کے جمال کی جھلک دیکھی تو رسمی زہد و ریاضت کی حقیقت اس پر کھل گئی۔


یہ ترکِ عبادت نہیں بلکہ عبادت سے حقیقتِ عبادت تک کا سفر ہے۔


قرآن کہتا ہے:


 **فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ**

 “تم جدھر بھی رخ کرو، اُدھر اللہ ہی کا چہرہ ہے۔” (سورۃ البقرہ: 115)

صوفیاء کے نزدیک جب بندہ ہر شے میں تجلیِ حق دیکھنے لگتا ہے تو اس کی عبادت رسم سے عشق بن جاتی ہے۔


حضرت رابعہ بصری فرمایا کرتی تھیں:

 “میں نہ جنت کے شوق میں عبادت کرتی ہوں نہ جہنم کے خوف سے، بلکہ صرف اللہ کی محبت میں عبادت کرتی ہوں۔”


اسی مفہوم کو خسروؔ نے شعری پیرائے میں بیان کیا کہ جب حسنِ حقیقی کی جھلک نصیب ہوئی تو تسبیح اور مصلّٰی کی ظاہری حیثیت ثانوی رہ گئی۔

---


 بے چارہ خسروؔ خستہ را خوں ریختن فرمودہ است

 خلقے بمنّت یک طرف، واں شوخ تنہا یک طرف


یہ شعر فنا فی المحبوب کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ “خون ریختن” سے مراد نفس کا قتل، انا کی موت، اور خودی کا مٹ جانا ہے۔


قرآن میں ارشاد ہے:


 **قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا**

“بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، اور نامراد ہوا جس نے اسے آلودہ رکھا۔”

( سورۃ الشمس: 9-10)


صوفیانہ راہ میں عاشق کو اپنی خواہشات، غرور اور نفس کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اسی کو اہلِ تصوف “موت قبل الموت” کہتے ہیں، یعنی مرنے سے پہلے اپنے نفس کو فنا کر دینا۔


حدیث شریف ہے:

 “کوئی شخص اُس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اُس کی خواہشات اُس دین کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔”( مشکوٰۃ المصابیح)


“خلقے بمنّت یک طرف” کا مطلب یہ ہے کہ پوری دنیا ایک طرف ہے، مگر محبوبِ حقیقی کی ایک ادا، ایک نگاہ، ایک تجلی سب پر بھاری ہے۔


---

 مجموعی صوفیانہ پیغام

یہ کلام انسان کو ظاہر سے باطن کی طرف بلاتا ہے۔

* شراب = عشقِ الٰہی

* زلف = تجلیاتِ حق

* رسوائی = فنا فی اللہ

* زاہد = رسمی دینداری

* خونِ خسروؔ = نفس کی قربانی

    حضرت خسروؔ دراصل یہ بتاتے ہیں کہ جب بندہ حقیقتِ عشق تک پہنچتا ہے تو عبادت محض عمل نہیں رہتی بلکہ دیدار، محبت اور قربِ الٰہی کی کیفیت بن جاتی ہے۔


اسی لیے صوفیاء کہتے ہیں:  “عشق وہ آگ ہے جو غیرِ خدا کو جلا دیتی ہے۔”


اور قرآن اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:

 **يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهُ**

 “اللہ اُن سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔”( سورۃ المائدہ: 54)