صفحات

Friday, June 12, 2026

ہر شب منم فتادہ بہ گرد سرائے تو




ہر شب منم فتادہ بہ گرد سرائے تو

تا روز آہ و نالہ کنم از برائے تو


ہر رات میں تیرے آستانے کے پاس پڑا رہتا ہوں، اور صبح تک تیرے غم میں آہ و زاری کرتا رہتا ہوں۔


روزے کہ ذرہ ذرہ شود استخوان من

باشد ہنوز در دل تنگم ہوائے تو

جس روز کہ میری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو جائیں اس دن بھی میرے تنگ دل میں تیری تمنا ہو گی۔


ہرگز شب وصال تو روزے نشد مرا

اے وائے بر کسے کہ بود مبتلائے تو


کبھی بھی تیرے وصال کی شب میرے لیے سحر نہ ہو سگی۔

افسوس اس دل پر جو تیری محبت میں گرفتار ہو۔


جاں را رواں برائے تو خواہم نثار کرد

دستم نمی دہد کہ نہم سر بہ پائے تو


اپنی جان تیرے لئے قربان کر دوں، میرا بس نہیں چلتا کہ تیرے پاؤں پر سر رکھ دوں۔


جانا بیا بہ بیں تو شکستہ دلی من 

عمرے گذشتہ است منم آشنائے تو


اے محبوب آ اور میری شکستہ دلی دیکھ،  میں ایک مدت سے تیرا آشنارہا ہوں۔


بر حال زار ما نظرے کن ز روئے لطف

تو بادشاہ حسن و خسروؔ گدائے تو


مہربانی فرما کر میری حالت زار پر لطف کی نظر کر، تو حسن کا بادشاہ ہے اور خسروؔ تیرا گدا ہے۔ 

No comments:

Post a Comment