صفحات

Tuesday, April 22, 2025

دیشب کہ می رفتی عیاں رو کردہ از ما یک طرف


 دیشب کہ می رفتی عیاں رو کردہ از ما یک طرف


دیشب کہ می رفتی عیاں رو کردہ از ما یک طرف

افگندہ کاکل یک طرف زلف چلیپا یک طرف


کل ہم سب کی طرف سے منہ موڑ کر اے محبوب تو ایک طرف چلا، اس انداز سے کہ کاکل ایک طرف پڑے ہوئے اور زلف چلیپا ایک طرف (زلف چلیپا، گھنگرالے بال)۔


سلطان خوباں می رود گرد ہجوم عاشقاں

چابک سواراں یک طرف مسکیں گدایاں یک طرف


معشوقوں کا معشوق جارہا ہے، اس کے گرد عاشقوں کا ہجوم ہے اور اس طرح ہے کہ تیز رفتار سوار ایک طرف ہیں  اورگدائے مسکین ایک طرف۔


نوشی شراب لعل او شد مجلس ما بے خبر

جام‌ و صراحی یک طرف مستان رسوا یک طرف


اس کے یاقوتی ہونٹوں کی شراب سے ہماری مجلس رندانہ اس قدر بے ہوش ہوگئی کہ جام وصراحی ایک طرف پڑے تھے اور عاشقان رسوا ایک طرف۔


تا بر رخ زیبائے تو افتادہ زاہد را نظر

تسبیح زہدش یک طرف ماندہ مصلیٰ یک طرف


تمہارے رخ زیبا پر جب زاہد کی نظر پڑ گئی تو (اس کا حال یہ ہوا کہ) تسبیح عبادت ایک طرف جا پڑی اور مصلیٰ ایک طرف پڑا رہ گیا۔


بے چارہ خسروؔ خستہ را خوں ریختن فرمودہ است

خلقے بمنت یک طرف واں شوخ تنہا یک طرف


اس محبوب نے بے چارے خستہ دل خسرو کا خون بہانے (قتل) کا حکم دے دیا، خلق خدا منت کے ساتھ ایک طرف ہے (حکم قتل واپس لینے کے لئے) اور وہ شوخ تنہا (محبوب) ایک طرف (فیصلہ بدلنے کو تیار نہیں)۔ 


No comments:

Post a Comment