صفحات

Tuesday, April 22, 2025

کاہے کو بیاہی بدیس

 

کاہے کو بیاہی بدیس


کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے

کاہے کو بیاہی بدیس

بھائیوں کو دیے محلے دو محلے ہم کو دیا پردیس

کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل!

کاہے کو بیاہی بدیس

ہم تو ہیں بابل تیرے کھونٹے کی گائیاں

جد ہانکے ، ہنک جائیں

ہم تو ہیں بابل تیرے بیلے کی کلیاں

گھر گھر مانگی جائیں

ہم تو ہیں بابل تیرے پنجرے کی چریاں

بھور بھئے اڑ جائیں

ٹاکوں بھری میں نے گڑیاں جو چھوڑیں

چھوٹا سہیلی کا ساتھ

کوٹھے تلے سے پالکی نکلی

بیرن نے کھائے پشاد

ڈولی کا پردہ اٹھا کر جو دیکھا

آیا پیا کا دیس

کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل!

کاہے کو بیاہی بدیس؟

٭٭٭


No comments:

Post a Comment